سبق، شہرت نہیں (Lesson, No Fame)
سبق، شہرت نہیں (Lesson, No Fame) [Hook] شہرت نہیں چاہیے، مجھے صرف سبق چاہیے، درد نے سکھایا، یہی میرا حق چاہیے۔ جھوٹی تعریفوں کا مجھے شوق نہیں، میری پہچان میرا کردار ہے، لوگ نہیں۔ [Verse] خالی جیب تھی مگر حوصلہ امیر تھا، ہر گرنے کے بعد اٹھنا ہی ضمیر تھا۔ وقت نے دکھایا کون اپنا، کون غیر، مشکلوں نے بنایا مجھے پہلے سے زیادہ شیر۔ میں نے سیکھا خاموشی بھی جواب ہوتی ہے، ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک کتاب ہوتی ہے۔ جو خود کو بیچ دیں، وہ نام تو کما لیتے ہیں، جو خود پہ قائم رہیں، وہ احترام کما لیتے ہیں۔ میرا راستہ الگ ہے، میرا اصول الگ، جھوٹ کے بازار میں بھی میرا اصول الگ۔ شہرت اگر ملے تو عزت کے ساتھ ملے، ورنہ تنہا چلوں گا، مگر سر کبھی نہ جھکے۔ [Outro] سبق نے سنبھالا، شہرت نے نہیں، اصل جیت وہی، جو ضمیر سے ملی۔ نام ایک دن مٹ جائے گا زمانے سے، کردار ہمیشہ زندہ رہے گا فسانے میں۔
You may also like

Leave a comment
See track description ↑