دوری
تیری ضرورت ہے مجھ کو تیری ضرورت اس کاعذ کو تعلق کردیا منقطع تو نے ملنا بھی گورا نہیں کیا تو نے تیری یادیں رہے گئ دل میں ان یادوں کو لے کر لکھا میں نے تیری باتیں مجھے بار بار ذیہن میں آے تیری باتوں کا جوڑ نکالا میں نے جو تو نے بولا وہ سب یاد ہے زندگی بھر نہیں بھولا تجھے میں نے تیرے لیےاس آس میں لکھ رہا ہوں میں اپنی کلا سے تجھ سے باتیں کر رہا ہوں جانتا ہے تو خفا تیرے چہرےپر میں عصہ بھی دیکھ چکا ہوں میرا موضوع تو میرا نام میں تو میرا کام بھی تو میرا علم بھی تو میراا قلم بھی تو میرے کاعذمیں بھی تو ہر شعر میں تو جہاں بھی۔ دیکھوں تو ہی توُ دور ہوگئے اس میں ہے تیری رضا سوچوں میں ہوتا ہوں تیرا ہی مبتلا میں حود کو فنا کر دوتیری حاطر اسا لگتا ہے میں ہوگیا ہوں تیرا ہی مبتدا رہتے دور اور حفاتم میں تیرا منتظر میں بیٹھ گیا رہتے مدہوش اور لاتعلق ہم تیری دید کے لیے میں بیٹھ گیا ہم تیرے لیے رات بھر سوچتے ہیں ہم اسے ہی آنسوں پچھتے ہیں ہم۔ اسے ہی ناشیستہ بیٹھے ہیں ۂم دنیامیں وراں سے لگتے ہیں تیرے لیۓ فنا کردوں حود کو اگر آپ حکم کرتے ہیں تجھ سے جدا رہے ہم ہم لہو سے لکھنا چاہتے تھے تیرے بارے خدا سے منانگے تم تمُ نہ آے اب گنتا تارے تیری دوری مجھ ستاۓ تیری یاد دل سے نہ جاے دنیا کہتی میں اس کے لایق نہیں پتا نہیں کب سانسیں بند ہو جاۓ
You may also like

Leave a comment
See track description ↑